08:17 , 4 مئی 2026
Watch Live

سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ٹیرف کالعدم قرار دیے

ٹرمپ ٹیرف فیصلہ

امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی تجارتی محصولات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ صدر کو وسیع پیمانے پر ٹیرف نافذ کرنے کا مکمل اختیار حاصل نہیں تھا۔ امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ ٹیرف فیصلہ ملکی اور عالمی سطح پر اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ اس سے تجارتی پالیسی اور صدارتی اختیارات دونوں متاثر ہوں گے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ ججوں کا کہنا تھا کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر اس نوعیت کے وسیع تجارتی اقدامات نہیں کرسکتے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدر کو عام حالات میں عالمی سطح پر محصولات لگانے کا اختیار نہیں دیتا۔ یہ قانون ہنگامی صورتحال میں کچھ معاشی اقدامات کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس کی حدود مقرر ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف

ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات حالیہ تجارتی معاہدوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کی نئی حد مقرر کرتا ہے کہ صدر امریکا کن پالیسیوں کو کانگریس کی منظوری کے بغیر نافذ کرسکتے ہیں، خاص طور پر تجارت کے شعبے میں۔

مبصرین اسے ٹرمپ کی معاشی حکمت عملی کے لیے بڑا عدالتی دھچکا قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ٹیرف ان کے اقتصادی ایجنڈے کا اہم حصہ تھے۔ سابق صدر پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ اگر عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اب امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ ٹیرف فیصلہ مستقبل کی تجارتی پالیسیوں اور صدارتی اختیارات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION