03:03 , 2 مئی 2026
Watch Live

کراچی بندرگاہ پر پوراعلانٹ چارجز میں 50 فیصد کمی کا

کراچی پورٹ

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کراچی بندرگاہ پر پورٹ چارجز میں 50 فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ تجارتی لاجسٹکس کے کاربن فُٹ پرنٹ کو کم کرنے اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔


سمندری شعبے کی ماحولیاتی اصلاحات کا آغاز

اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی اُس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کے سمندری شعبے کو ڈی کاربنائز کرنا (یعنی کم کاربن پیدا کرنے والا بنانا) اور پورٹ آپریشنز میں توانائی کی بچت کو فروغ دینا ہے۔

"یہ محض مالی رعایت نہیں، بلکہ ہماری بندرگاہوں کو ماڈرن، ماحول دوست اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی طرف ایک عملی قدم ہے،” وزیر کا کہنا تھا۔


اس اقدام کے ممکنہ فوائد

کراچی بندرگاہ پر پورٹ چارجز میں کمی سے درج ذیل فوائد حاصل ہوں گے:

  • تجارتی کمپنیوں کے اخراجات میں نمایاں کمی

  • ماحول دوست ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ

  • بین الاقوامی سرمایہ کاری اور بحری تجارت کو فروغ

  • کاربن اخراج میں کمی اور ماحول کی بہتری


قومی سمندری حکمتِ عملی کا حصہ

وفاقی حکومت کی "قومی سمندری حکمتِ عملی” (National Maritime Strategy) کے تحت:

  • پورٹ انفرااسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے

  • سمندری نقل و حمل کے ماحولیاتی اثرات میں کمی کی جا رہی ہے

  • ڈیجیٹل اور اسمارٹ پورٹ سسٹمز پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے

  • پاکستانی بندرگاہوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے


عالمی ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگی

وفاقی وزیر نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا بحری شعبہ عالمی ماحولیاتی تقاضوں، خصوصاً انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) اور پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہو گا۔

"ہماری بندرگاہوں کو بدلتے ہوئے عالمی ماحولیاتی اور تجارتی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہے۔ یہ کمی ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان ماحول دوست تجارت کے لیے تیار ہے،” جنید انور چوہدری نے کہا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION