03:18 , 2 مئی 2026
Watch Live

ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو دفاعی نظام دیا

جدید لیزر ڈیفنس سسٹم

ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو جدید لیزر ڈیفنس سسٹم فراہم کیا، برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سسٹمز میزائل اور ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے دیے گئے۔ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو “اسپیکٹرو” نامی سرویلنس سسٹم فراہم کیا۔ یہ سسٹم تقریباً 20 کلومیٹر دور سے آنے والے ڈرونز کو شناخت کر سکتا ہے۔ خاص طور پر یہ شاہد طرز کے ڈرونز کے خلاف مؤثر ہے۔

مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے “آئرن بیم” لیزر دفاعی نظام کا ایک ورژن بھی فراہم کیا۔ یہ سسٹم قلیل فاصلے کے راکٹ اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل نے اسے حزب اللہ کے حملوں کے خلاف استعمال کیا تھا جو لبنان سے کیے گئے۔

مزید پڑھیں: بھارتی کمپنی پر ایران کے ساتھ خفیہ تجارت کے ذریعے امریکی پابندیوں سے بچنے کا الزام

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے اپنا “آئرن ڈوم” فضائی دفاعی نظام بھی متحدہ عرب امارات کو فراہم کیا۔ ان سسٹمز کو چلانے کے لیے درجنوں اسرائیلی فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔ ان کا مقصد دفاعی نظام کی آپریشنل نگرانی اور مدد فراہم کرنا تھا۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مزید ہتھیار اور اضافی اہلکار بھی بعد میں تعینات کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید بڑھا۔ یہ اقدامات خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے تناظر میں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو مغربی ایران سے میزائل حملوں سے متعلق اہم انٹیلی جنس بھی فراہم کی۔ اس تعاون نے دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا۔ ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو جدید لیزر ڈیفنس سسٹم دیا، جو مستقبل میں خطے کی سکیورٹی پالیسی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION