01:46 , 1 مئی 2026
Watch Live

توانائی تحفظ کو قومی ترجیح بنانے کی ضرورت

پاکستان میں توانائی تحفظ

پاکستان کو درپیش معاشی اور جغرافیائی چیلنجز کے تناظر میں توانائی کا تحفظ ایک مرکزی قومی ترجیح کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کی سالانہ توانائی درآمدات، جن میں تیل، ایل این جی اور دیگر ایندھن شامل ہیں، تقریباً 16 سے 18 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو زرمبادلہ کے ذخائر پر بھاری دباؤ ڈال رہی ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کا ماہانہ درآمدی بل نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔ حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی کفایتی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں چار روزہ ورک ویک، سرکاری اخراجات میں کمی، اور توانائی کے استعمال میں بچت شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا اجلاس، مشرق وسطیٰ کشیدگی اور توانائی بحران پر غور

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں اور مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اس کے لیے متبادل توانائی ذرائع، خصوصاً شمسی توانائی، کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران شمسی توانائی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کی بچت ممکن ہوئی ہے۔

پالیسی ماہرین کا مؤقف ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس میں کمی، نیٹ میٹرنگ پالیسی میں بہتری، اور کارپوریٹ شعبے کے لیے ٹیکس مراعات جیسے اقدامات اس شعبے کی مزید ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیٹری اسٹوریج اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے توانائی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔

مزید برآں، ایران سے تیل اور گیس درآمد کرنے کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں، جو توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق توانائی کا تحفظ صرف معاشی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بھی اہم جزو ہے، اور اس حوالے سے بروقت اور مؤثر فیصلے مستقبل کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION