ڈاکٹر وردہ کی لاش برآمد، پولیس کی تحقیقات جاری، ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا احتجاج

ایبٹ آباد: ڈی ایچ کیو ہسپتال سے مبینہ اغواء ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش لڑی بنوٹا کے مقام سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر وردہ 4 دسمبر کو اپنی دوست کے ہمراہ گاڑی میں ہسپتال سے گئی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا اپنی دوست کے پاس امانت کے طور پر رکھوایا تھا، جس کے بعد واقعہ پیش آیا۔ ڈاکٹر وردہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وردہ کی دوست خاتون ردا، اس کا شوہر اور ڈرائیور سمیت 9 افراد حراست میں ہیں۔ ملزمہ خاتون ردا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دوست ڈاکٹر کو کرائے کے قاتلوں کے حوالے کیا۔
گرفتار ملزم کی نشاندہی پر ایک دیگر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مرکزی ملزم ابھی تک فرار ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ٹھنڈیانی کے جنگلات میں ملزم کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
واقعہ کے بعد ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، ہری پور میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا احتجاج جاری ہے، جس کے باعث ڈی ایچ کیو ہسپتال میں او پی ڈی سمیت تمام سروسز بند کر دی گئی ہیں۔
مظاہرین نے ڈھینڈا روڈ بھی بند کر دیا اور قاتلوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی ڈی پی او ایبٹ آباد اور ایم ایس ہسپتال کی فوری معطلی کا بھی مطالبہ کیا۔
ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں مکمل انصاف چاہتے ہیں اور فوری کارروائی نہ ہونے کی صورت میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔











