امریکی یونیورسٹی پر حملے کی مبینہ منصوبہ بندی: پاکستانی نژاد نوجوان گرفتار

امریکی ریاست ڈیلاویئر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک پاکستانی نژاد نوجوان کو اسلحہ رکھنے اور مبینہ طور پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی ایک پارک میں مشکوک سرگرمی کی اطلاع ملنے پر کی گئی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق گرفتار نوجوان کی شناخت 25 سالہ لقمان خان کے نام سے کی گئی ہے، جو کبھی یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کا طالب علم رہ چکا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ وہ ایک پِک اَپ ٹرک میں موجود تھا اور ہدایات کے باوجود گاڑی سے باہر نہ نکلنے پر اسے حراست میں لیا گیا۔
تفتیش کے دوران پولیس نے گاڑی سے ایک پستول، گولیوں سے بھرے میگزین، باڈی آرمَر پلیٹس اور ہتھیار تبدیل کرنے والے آلات برآمد کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہتھیار وہ خصوصیات رکھتے تھے جن کے ذریعے پستول کو زیادہ طاقتور ہتھیار میں بدلا جاسکتا تھا۔
پولیس کے مطابق ٹرک سے ایک ہاتھ سے لکھی ہوئی نوٹ بُک بھی ملی، جس میں مبینہ طور پر یونیورسٹی آف ڈیلاویئر پولیس ڈیپارٹمنٹ کے خاکے، داخلی و خارجی راستے اور ایک افسر کے بارے میں تحریری مواد موجود تھا۔ حکام نے بتایا کہ نوٹ بُک میں کچھ ایسی تحریریں بھی تھیں جنہوں نے ان کی تشویش میں اضافہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹیکساس میں یونیورسٹی طالبہ 3 پِٹ بُلز کے حملے میں ہلاک
ایف بی آئی کی جانب سے نوجوان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا جہاں سے مزید ہتھیار ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا سامان ممکنہ طور پر ایک منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتا ہے تاہم تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں ممکنہ بڑے سانحے کو روکا گیا، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نوجوان اکیلا تھا یا اس کے رابطے مزید افراد سے تھے۔ تفتیشی ٹیم مختلف شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ملزم پاکستانی نژاد امریکی شہری ہے، گرین کارڈ ہولڈر ہے اور لڑکپن میں پاکستان سے امریکا منتقل ہوا تھا۔ اسے 11 دسمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ موجود نہیں۔












