بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو گوادر میں ایک سیکیورٹی اہلکار کے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے یہ فیصلہ طویل قانونی کارروائی کے بعد سنایا۔ ماہ رنگ بلوچ عمر قید کیس حالیہ دنوں میں بلوچستان کے اہم عدالتی مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کا ٹرائل ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ سے آن لائن طریقے سے جاری رہا۔ عدالت نے شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد دونوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔
فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید شبیر بلوچ کے قتل کیس میں انصاف کی فراہمی قانون کی بالادستی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق دو سالہ قانونی جدوجہد کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا، جو ریاستی اداروں اور قانون کے نظام پر اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکپتن: بابا فرید گنج شکر کے عرس میں بھگدڑ، 80 سے زائد افراد زخمی
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہید شبیر بلوچ نے دورانِ ڈیوٹی اپنی جان قربان کی اور ریاست ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے سے ثابت ہوا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے اور تشدد کو فروغ دینے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی، انتشار اور قانون شکنی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور امن دشمن عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ان کے مطابق ماہ رنگ بلوچ عمر قید کیس میں آنے والا فیصلہ انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔













