ایف بی آر کی ٹیکسٹائل ملز میں کیمرے لگانے کی ہدایت

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکسٹائل ملز کی مانیٹرنگ کے لیے کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی ہدایت متعلقہ اداروں کو جاری کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں دو کمپنیوں کو کیمرے لگانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔
ہر ٹیکسٹائل مل میں 20 کیمرے لگائے جائیں گے اور مانیٹرنگ کے لیے سافٹ ویئر بھی فراہم کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ کیمرے اور سافٹ ویئر مارکیٹ میں آدھی قیمت پر دستیاب ہیں۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) نے FBR کے اس اقدام کو زیادتی اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔ اپٹما کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر پہلے ہی بجلی، گیس اور ٹیکسوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، اور ایسے اقدامات مزید بوجھ بڑھائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ اپٹما نے معاملہ چیئرمین FBR راشد محمود لنگڑیال کے سامنے رکھنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : ایف بی آر اور پرائیویٹ اسپتالوں کا ٹیکس ریکارڈ معاملہ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے لاہور کے تمام پرائیویٹ اسپتالوں سے ٹیکس معاملات کی شفافیت بہتر کرنے کے لیے کارروائی تیز کر دی ہے۔
حکام کے مطابق ایف بی آر کا ٹیکس ریکارڈ نہ دینے والے اداروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے، اسی لیے مختلف اسپتالوں سے تفصیلی ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ یہ اقدام ٹیکس نظام کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے نہایت اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ایک معروف پرائیویٹ اسپتال کا مکمل ٹیکس ریکارڈ تحویل میں لے لیا گیا ہے کیونکہ اسپتال انتظامیہ درست اعدادوشمار فراہم نہیں کر رہی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال کے مالی ریکارڈ میں کئی تضادات سامنے آئے، جس کے بعد مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسپتال کا سالانہ اصل ٹیکس 55 کروڑ روپے بنتا ہے، لیکن اسپتال انتظامیہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے صرف سہ ماہی بنیاد پر 55 لاکھ روپے جمع کروانے پر اصرار کرتی رہی۔ حکام نے اس رویے کو ٹیکس قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔














