01:03 , 18 اپریل 2026
Watch Live

ایف بی آر اور پرائیویٹ اسپتالوں کا ٹیکس ریکارڈ معاملہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے لاہور کے تمام پرائیویٹ اسپتالوں سے ٹیکس معاملات کی شفافیت بہتر کرنے کے لیے کارروائی تیز کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ایف بی آر کا ٹیکس ریکارڈ نہ دینے والے اداروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے، اسی لیے مختلف اسپتالوں سے تفصیلی ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ یہ اقدام ٹیکس نظام کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے نہایت اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ایک معروف پرائیویٹ اسپتال کا مکمل ٹیکس ریکارڈ تحویل میں لے لیا گیا ہے کیونکہ اسپتال انتظامیہ درست اعدادوشمار فراہم نہیں کر رہی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال کے مالی ریکارڈ میں کئی تضادات سامنے آئے، جس کے بعد مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اسپتال کا سالانہ اصل ٹیکس 55 کروڑ روپے بنتا ہے، لیکن اسپتال انتظامیہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے صرف سہ ماہی بنیاد پر 55 لاکھ روپے جمع کروانے پر اصرار کرتی رہی۔ حکام نے اس رویے کو ٹیکس قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل، وزیر خزانہ کا اعلان

ایف بی آر نے واضح کیا کہ تمام پرائیویٹ اسپتالوں سے ٹیکس ریکارڈ طلب کرنا ایک معمولی کارروائی نہیں بلکہ قومی ریونیو کو تحفظ دینے کے لیے ضروری قدم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بڑے ادارے جب مکمل ریونیو ظاہر نہیں کرتے تو قومی خزانہ براہ راست متاثر ہوتا ہے۔

ٹیکس حکام نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی اسپتال کو غلط بیانی یا ٹیکس چوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایف بی آر نے اعلان کیا کہ اگر کسی ادارے نے ایف بی آر کا ٹیکس ریکارڈ فراہم نہ کیا تو اس کے خلاف سخت ما تحت قانونی کارروائی کی جائے گی، تاکہ قومی آمدنی کو بے ضابطگیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION