پاکستان میں روزگار کے مواقع کم، بیروزگاری میں اضافہ

پاکستان میں جاری قومی لیبر فورس سروے کے نئے نتائج کے مطابق ملک میں بیروزگاری میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 2020-21 میں 6.3 فیصد تھی۔ سروے بتاتا ہے کہ بیروزگاری میں یہ اضافہ گزشتہ چند سال میں ملکی معاشی صورتحال کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 59 لاکھ افراد بیروزگار ہیں جو بہت تشویش ناک ہے۔ سروے میں بتایا گیا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے، جن میں سے 3.3 فیصد افراد روزگار سے محروم ہیں۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملازمتوں کے مواقع کم اور مقابلہ زیادہ ہو چکا ہے۔
لیبر فورس سروے کے مطابق روزگار فراہم کرنے میں سب سے بڑا کردار سروسز سیکٹر کا ہے، جہاں 3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد کام کر رہے ہیں۔ اس شعبے میں روزگار کی شرح 41.7 فیصد بتائی گئی ہے۔ اس کے بعد زراعت اور صنعتی شعبے کا نمبر آتا ہے جو مجموعی طور پر بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنوں میں حساس اطلاعات پر آپریشن، بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک
زراعت میں روزگار کی شرح 33.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اس شعبے میں 2 کروڑ 55 لاکھ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔ صنعتی شعبے میں 25.7 فیصد افراد برسرروزگار ہیں، جس کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار بنتی ہے۔ ان اعدادوشمار سے واضح ہے کہ ملک میں روزگار کے مواقع زیادہ تر انہی بڑے شعبوں تک محدود ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں فی کس اوسط ماہانہ اجرت 39 ہزار روپے ہے، جو پچھلے پانچ سالوں میں کچھ بہتر ہوئی ہے۔ تاہم معاشی دباؤ اور مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی اب بھی مشکلات کا شکار ہے۔ آخر میں سروے اس بات کی ضرورت پر زور دیتا ہے کہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح کم کرنے کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا اور معاشی ماحول کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔











