06:17 , 19 جون 2026
Watch Live

مئی 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 45.9 کروڑ ڈالر سرپلس رہا: اسٹیٹ بینک

کرنٹ اکاؤنٹ

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ مئی 2026 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 45.9 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بہتری بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی اور ترسیلات زر میں اضافے کی وجہ سے سامنے آئی۔

مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر 25.5 کروڑ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بیرونی شعبے میں استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مئی کے دوران دنیا سے 5.6 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات کیں، جبکہ اسی عرصے میں ملکی برآمدات 2.3 ارب ڈالر رہیں۔ درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق نے تجارتی توازن پر نمایاں اثر ڈالا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مئی 2026 میں تجارتی خسارہ 3.3 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ رواں مالی سال کے 11 مہینوں کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ 24.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال کے 11 مہینوں میں پاکستان نے مجموعی طور پر 54 ارب ڈالر مالیت کا سامان درآمد کیا۔ دوسری جانب اسی مدت میں ملکی ایکسپورٹس 29.75 ارب ڈالر رہیں، جو تجارتی خلا کو مکمل طور پر کم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئیں۔

اس مثبت معاشی تصویر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مئی میں ریکارڈ 4.2 ارب ڈالر کی ورکرز ترسیلات موصول ہوئیں، جس نے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے 11 مہینوں میں مجموعی ورکرز ترسیلات 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترسیلات زر اور برآمدات میں مزید اضافہ برقرار رہا تو پاکستان کے بیرونی مالیاتی اشاریے مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION