چک شومر کا اعلان، ڈیموکریٹس ایران کو 300 ارب ڈالر بھیجنے میں مدد نہیں کریں گے

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ چک شومر نے واضح کیا ہے کہ ڈیموکریٹس ایران کو 300 ارب ڈالر بھیجنے کے کسی بھی منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے، جس سے امریکی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ایک بیان میں چک شومر نے کہا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو سیکڑوں ارب ڈالر فراہم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کے لیے اپنی جماعت کے ووٹوں پر انحصار کرنا ہوگا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس معاملے پر ڈیموکریٹس تعاون نہیں کریں گے۔
شومر نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی 300 ارب ڈالر ایران بھیجنے میں مدد نہیں کرے گی کیونکہ ان کے نزدیک یہ فیصلہ امریکی مفادات اور پالیسی ترجیحات کے مطابق نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے مالی فیصلوں میں شفافیت اور واضح حکمت عملی ضروری ہے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے، جس کی بڑی وجہ قیادت کی غلط ترجیحات ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کئی اہم داخلی اور خارجی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
چک شومر کا کہنا تھا کہ امریکی عوام ایک ذمہ دار اور حقیقت پسندانہ قیادت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر ٹرمپ کی انا اور حقائق کو قبول نہ کرنے کی روش نے پالیسی سازی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران سے متعلق مالی یا سفارتی فیصلے امریکی کانگریس میں شدید سیاسی تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب معاملہ اربوں ڈالر کی فنڈنگ سے جڑا ہو۔













