وزیراعظم نے ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل پر نظرثانی کیلئے کمیٹی قائم کردی

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل پر بڑھتے ہوئے تحفظات کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے تاکہ متنازع شقوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے۔
کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کریں گے۔ دیگر اراکین میں سینیٹر شیری رحمان، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ، احد چیمہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور قانون و آئی ٹی کے ماہرین شامل ہیں۔
کمیٹی کو بل کے سیکشن 2 کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، خاص طور پر رائٹ آف وے فریم ورک کا، جو ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو انفراسٹرکچر نصب کرنے کے قانونی اختیارات سے متعلق ہے۔
یہ ترمیمی بل حال ہی میں قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے اور اب اسے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم اس کی بعض شقوں پر شدید بحث جاری ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں نیٹ ورک کی توسیع کے لیے نجی یا سرکاری زمین پر موبائل ٹاور نصب کرنے یا آپٹیکل فائبر بچھانے کی اجازت حاصل کر سکتی ہیں۔
بل کی سب سے متنازع شق کے مطابق اگر کوئی گھر کا مالک، کرایہ دار یا سرکاری و نجی ادارہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب سے انکار کرے تو اس پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی سفارشات پیش کرے تاکہ ڈیجیٹل ترقی اور شہریوں کے جائیدادی حقوق کے درمیان متوازن حل نکالا جا سکے۔












