ایران مذاکرات کے لیے تیار، مگر وعدہ خلافی اور دھمکیاں بڑی رکاوٹ ہے، مسعود پزشکیان

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے مکالمے اور معاہدوں کا حامی رہا ہے اور موجودہ حالات میں بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو اہمیت دیتا ہے اور ہر ممکن حد تک بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خواہاں ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ حقیقی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وعدوں کی خلاف ورزی، اقتصادی پابندیاں اور دھمکیاں ہیں جو اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔
انہوں نے بغیر نام لیے عالمی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ان کے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد کو واضح طور پر دیکھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے رویے عالمی سطح پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مکمل جنگ بندی اسی وقت قابل قبول ہوگی جب سمندری ناکہ بندی ختم کی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔














