جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے عہدہ سنبھال لیا

جاپان کی تاریخ میں پہلی بار خاتون وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے باضابطہ طور پر عہدہ سنبھال لیا ہے۔ چین مخالف مؤقف رکھنے والی اور سماجی طور پر قدامت پسند سیاست دان سانائے تاکائچی نے آخری لمحات میں ایک اتحادی معاہدہ کر کے وزارتِ عظمیٰ حاصل کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، سانائے تاکائچی گزشتہ پانچ سالوں میں وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی پانچویں شخصیت ہیں۔ وہ ایک اقلیتی حکومت کی قیادت کریں گی اور ان کے سامنے کئی سیاسی، معاشی اور سفارتی چیلنجز موجود ہیں، جن میں اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جاپان کا دورہ بھی شامل ہے۔
پارلیمان نے منگل کو انہیں جاپان کی نئی وزیرِاعظم منتخب کیا، جہاں وہ ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں غیر متوقع طور پر اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ وہ شہنشاہ سے باضابطہ ملاقات کے بعد اپنا عہدہ سنبھالیں گی۔
سانائے تاکائچی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کابینہ میں خواتین کی نمائندگی نارڈک ممالک کے معیار کے قریب ہوگی۔ ان کی ممکنہ کابینہ میں ساتسوکی کاتایاما (وزیرِمالیات) اور کیمی اونودا (وزیرِمعاشی سلامتی) شامل ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جاپان میں پہلی خاتون وزیراعظم منتخب
64 سالہ تاکائچی نے اپنی ترجیحات میں معاشی اصلاحات، خواتین کے حقوق، اور جاپان کی عالمی حیثیت کی بحالی کو سرفہرست رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاپان کو ایک ایسی مضبوط معیشت بنانا چاہتی ہیں جو آئندہ نسلوں کی ذمہ داری اٹھا سکے۔
تاہم، انہیں کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے، روسی توانائی درآمدات، دفاعی اخراجات میں اضافہ، اور بڑھتی عمر کی آبادی جیسے مسائل شامل ہیں۔
تاکائچی اپنے چین مخالف مؤقف کے باعث ’چائنا ہاک‘ کہلاتی رہی ہیں، لیکن وزارتِ عظمیٰ کے بعد انہوں نے اپنا لہجہ نرم کر لیا ہے اور یاسوکونی مزار کی جنگی تقریب میں شرکت سے بھی گریز کیا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، سانائے تاکائچی کی کامیابی جاپان کی سیاست میں خواتین کی قیادت کے نئے دور کا آغاز ہے، تاہم انہیں اپنی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی کھوئی ہوئی عوامی حمایت بحال کرنے کے لیے بہت محنت کرنا ہوگی۔











