برطانیہ میں کم از کم تنخواہ میں اضافہ

لندن — برطانوی حکومت نے ملک بھر کے ورکرز کے لیے کم از کم تنخواہ میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو مہنگائی اور معاشی دباؤ سے بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق کم از کم تنخواہ میں 4.1 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد 21 برس اور اس سے زائد عمر کے افراد کی فی گھنٹہ اجرت بڑھ کر 12.71 پاؤنڈ ہو جائے گی۔ یہ اضافہ موجودہ معاشی صورتحال کے پیشِ نظر ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت نے 18 سے 20 برس کے نوجوان کام کرنے والوں کے لیے بھی اجرت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کی فی گھنٹہ کم از کم تنخواہ 8.5 فیصد اضافے کے ساتھ 10.85 پاؤنڈ مقرر کر دی گئی ہے۔ جبکہ 16 اور 17 برس کے ورکرز کی اجرت میں 6 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی تنخواہ 8 پاؤنڈ فی گھنٹہ ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ سے چوری شدہ گاڑی کراچی میں پکڑی گئی
برطانوی حکام کے مطابق اس فیصلے سے ملک بھر میں لاکھوں کارکنان براہِ راست مستفید ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ کم آمدنی والے گھرانوں کو ریلیف دینے کے لیے ضروری تھا۔
تاہم کچھ آجر اور کاروباری حلقے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ مزدوری کے اخراجات بڑھنے سے کاروباروں پر دباؤ بڑھے گا اور بالآخر اشیا و خدمات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
رواں سال کے آغاز میں بھی کم از کم تنخواہ میں 6.7 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ ریچل ریوز کا کہنا ہے کہ موجودہ اضافہ بھی وقت کی ضرورت تھا تاکہ ورکرز کو ان کی محنت کا منصفانہ معاوضہ دیا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق کم از کم اجرت کے لحاظ سے برطانیہ یورپ میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ 2019 سے اب تک کم از کم تنخواہ میں مجموعی طور پر 60 فیصد سے زائد اضافہ کیا جا چکا ہے۔











