نائجیریا میں ایک ماہ قبل اغوا ہونے والے 100 بچے بازیاب، مزید معلومات کا انتظار

ابوجا: نائجیریا کی حکومت نے نائجر اسٹیٹ سے ایک ماہ قبل اغوا کیے گئے 100 اسکول کے بچوں کو کامیاب کارروائی کے بعد بحفاظت بازیاب کرالیا ہے۔ مقامی نشریاتی اداروں کے مطابق یہ پیش رفت گزشتہ روز سامنے آئی، جس کے بعد ملک بھر میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نائجیریا کی حالیہ تاریخ کے بدترین اجتماعی اغوا کیسز میں شامل تھا۔ 21 نومبر کو مسلح افراد نے سینٹ میری کیتھولک بورڈنگ اسکول، پاپیری پر حملہ کرکے 303 طلباء اور 12 اسٹاف ممبران کو اغوا کر لیا تھا۔
اغوا کے وقت شدید فائرنگ اور بھگدڑ کے دوران تقریباً 50 بچے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، تاہم درجنوں بچوں اور اسکول عملے کے بارے میں کئی ہفتوں تک کوئی قابلِ اعتماد معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
مقامی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اغوا کیے گئے تقریباً 100 بچوں کو آزاد کرا لیا گیا ہے، لیکن کارروائی کی نوعیت اور بچوں کی موجودہ حالت سے متعلق تفصیلی معلومات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : نائجیریا میں کشتی الٹنے سے 40 سے زائد افراد لاپتہ
نائجر اسٹیٹ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں وفاقی حکومت کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔ اس وجہ سے صوبائی سطح پر بھی صورتحال کا واضح جائزہ نہیں لیا جا سکا۔
کرسچین ایسوسی ایشن آف نائجیریا نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان ڈینیئل اٹوری نے کہا کہ سرکاری طور پر انہیں ابھی تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم رپورٹس سے امید کی کرن ضرور پیدا ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی حکومت سے باقی بچوں کی فوری تلاش اور بازیابی کے لیے جامع حکمتِ عملی کی توقع کرتے ہیں۔ مقامی کمیونٹیز بھی تمام بچوں کی بحفاظت واپسی کے منتظر ہیں۔











