نابینا پاکستانی طالب علم محمد ابوبکر نے انڈونیشیا میں قرأت کا عالمی مقابلہ جیت لیا

شہرِ قائد سے تعلق رکھنے والے 10 سالہ نابینا پاکستانی طالب علم محمد ابوبکر نے انڈونیشیا میں منعقدہ قرأت کے بین الاقوامی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے ملک کا نام روشن کر دیا۔
جکارتہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرِ اہتمام ہونے والے تحفیظ و قرأت کے عالمی مقابلے میں مختلف اسلامی ممالک کے طلبہ نے شرکت کی، جہاں کمسن حافظ ابوبکر نے غیر معمولی قرأت کے ساتھ سب کو متاثر کیا۔
محمد ابوبکر نے نابینا ہونے کے باوجود قرآن مجید کی تحفیظ اور تجوید میں اعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنی عمر کے طلبہ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ججز نے ان کی روانی، ادائیگی اور صوتی حسن کی خاص طور پر تعریف کی۔
ابو بکر کے والد کراچی کی ایک مقامی مسجد میں خادم کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں، اور محدود وسائل کے باوجود اپنے بیٹے کی دینی تعلیم کے لیے بھرپور محنت کرتے رہے۔
ابوبکر کراچی کے معروف مدرسے دارالاصلاح للتحفیظ والتجوید کے طالب علم ہیں، جہاں انہوں نے کم عمری میں قرآنِ کریم حفظ کیا اور قرأت کی خصوصی تربیت حاصل کی۔
مدرسہ دارالاصلاح کے مہتمم اور ابوبکر کے استاد قاری اصلاح اللہ صادق نے ان کی اس قابلِ فخر کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمسن حافظ پاکستان کا سرمایہ اور نوجوانوں کے لیے ایک شاندار مثال ہے۔
قاری اصلاح اللہ کا کہنا تھا کہ ابوبکر نے عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کیا ہے، اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی وہ قرآن کی خدمت کے لیے نمایاں کردار ادا کریں گے۔











