05:04 , 23 جون 2026
Watch Live

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحد پر کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحد پر کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسیاں رپورٹ کر رہی ہیں کہ دونوں حکومتیں ایک دوسرے پر کارروائی میں پہل کرنے کے الزامات لگا رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

تھائی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمبوڈین فورسز نے حالیہ جھڑپوں میں نئے مقامات پر حملوں میں اضافہ کیا ہے اور سرحدی علاقوں میں مزید اہلکار اور اسلحہ تعینات کیا ہے۔ ان کے مطابق جھڑپوں میں ایک تھائی فوجی ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ تھائی فوج نے ’’مناسب اور بھرپور‘‘ جواب دیا ہے۔

ادھر کمبوڈیا کی وزارتِ دفاع نے تھائی موقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں کا آغاز تھائی فورسز نے کیا تھا جبکہ کمبوڈین فوج نے کسی قسم کی جارحیت نہیں کی۔ کمبوڈین حکام کے مطابق وہ اب بھی سفارتی حل کے حامی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال جولائی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد صورتحال شدید تناؤ کا شکار رہی۔

یہ بھی پڑھیں : ملائیشیا کی ثالثی، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جنگ بندی کا اعلان

اکتوبر میں ملائیشیا میں ہونے والی آسیان سمٹ کے دوران اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے بعد دونوں ممالک نے سیزفائر معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس سے عارضی سکون پیدا ہوا تھا۔

تاہم دو ہفتے بعد ہی تھائی لینڈ نے الزام عائد کیا کہ کمبوڈین فوج نے اس کے دو فوجیوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد بینکاک نے یکطرفہ طور پر سیزفائر معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ کمبوڈیا نے اس واقعے کی بھی تردید کی تھی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ کمبوڈیا اس سے قبل صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر چکا ہے، تاہم موجودہ کشیدگی نے ثابت کر دیا ہے کہ سرحدی تنازع کے مستقل حل کے لیے اب بھی مضبوط سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION