ویب ڈیسک
|
1 سال پہلے
روس نے وائٹ ہاؤس میں عزت افزائی کو زیلنسکی کے منہ پر زور دار تھپڑ قرار دیدیا

روس یوکرینی صدر کی کھنچائی پر خوش۔ روس کی قومی سلامتی کے ڈپٹی چیئرمین دیمتری میدویدیف کہتے ہیں ٹرمپ نے زیلنسکی کو اس کی اوقات یاد دلائی۔
دیمتری میدویدیف کہتے ہیں زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس میں زوردارتھپڑ لگا۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جےڈی وینس نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا وہ معجزہ ہے۔
دوسری جانب، کینیڈا، جرمنی سمیت کئی ملکوں کی ٹرمپ کے رویے کی مذمت ، کہا زیلنسکی روس کیخلاف خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔ کینیڈین وزیر خارجہ میلا نیاجولی کا کہنا ہے یوکرینی عوام اپنی آزادی ہی نہیں ہماری آزادی کیلئے بھی لڑ رہے ہیں، یوکرین کی حمایت پر یقین رکھتے ہیں۔
صدر یورپین کمیشن ارسلا وان ڈیر لیین کہتی ہیں زیلنسکی اپنے شہریوں کی بہادری کے ترجمان ہیں، وہ مضبوط اور بے خوف رہیں۔ یورپ امن کی خاطر یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔ جرمن چانسلر شولز کا کہنا ہے کہ یوکرین جرمنی اور یورپ پر انحصار کر سکتا ہے۔
اطالوی وزیراعظم نے کہا کہ یوکرین سمیت دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سربراہی اجلاس ضروری ہے، مغرب ہمیں کمزور اور ہماری تہذیب کا زوال دیکھنا چاہتا ہے۔
آسٹریلیا، سپین، سویڈن، پولینڈ اور نیدر لینڈز نے بھی یوکرینی صدر سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔ کہتے ہیں صدر ٹرمپ کا رویہ سفارتی اداب کے منافی تھا۔















