03:48 , 1 مئی 2026
Watch Live

پاکستان کی افغانستان میں کارروائی، دہشتگردوں کے 7 ٹھکانے نشانہ بنایا گیا

پاکستان کی افغانستان میں کارروائی

پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام حالیہ دہشتگرد حملوں کے ردعمل میں کیا گیا۔

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث تھے۔ بیان کے مطابق اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والی کارروائیوں کے تانے بانے سرحد پار ملتے ہیں۔

وزارت کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں، جنہیں سرکاری بیان میں فتنہ الخوارج قرار دیا گیا، نے قبول کی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان عناصر کو افغانستان میں پناہ حاصل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشتگرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کی گئیں۔ اسی بنیاد پر مخصوص مقامات کو ہدف بنایا گیا۔

حکومت کے مطابق پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگرد تنظیموں اور پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاہم مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے 7 کیمپس اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مخصوص اہداف تک محدود تھی۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن قومی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے افغان عبوری حکومت پر دباؤ ڈالے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION