خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی تعاون ختم کرنے کی دھمکی دے دی

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے کیسز کی سماعت میں تاخیر کا سلسلہ جاری رہا تو صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات محدود یا ختم کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
جمعہ کے روز کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون ختم کرنے سمیت بائیکاٹ کے آپشن پر بھی غور کرے گی۔ ان کے مطابق پاکستان کو عالمی سطح پر امن اور مذاکرات کے حامی ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو موقف عمران خان ہمیشہ سے اپناتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کا مؤقف رہا ہے کہ جنگیں اور فوجی کارروائیاں پائیدار حل نہیں ہوتیں، بلکہ دیرپا امن صرف مذاکرات اور سیاسی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق پی ٹی آئی نے ہمیشہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دی ہے۔
سہیل آفریدی نے وفاقی سطح پر پی ٹی آئی کے ساتھ مبینہ سیاسی امتیاز، کارکنوں کے خلاف طاقت کے استعمال اور نجی زندگی کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عمران خان کے اہل خانہ کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ذاتی معالجین اور اہل خانہ تک رسائی سے محروم رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں سی این جی کی بندش پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل پر صوبوں کا پہلا حق ہوتا ہے، اس لیے سپلائی کی بندش غیر قانونی اور ناانصافی ہے۔
اجلاس میں مالیاتی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں اور گورننس سے متعلق متعدد فیصلے بھی کیے گئے، جبکہ عوامی شمولیت اور فیڈبیک نظام کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔















