اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جہاں بجلی قیمتوں سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے۔ تاہم وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ اس طرح بجلی قیمتوں پر حکومتی مؤقف ایک بار پھر مبہم دکھائی دیا۔
اجلاس کے دوران ارکان نے پوچھا کہ کیا حکومت بجلی سبسڈی ختم کرنے جارہی ہے۔ اس سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ معاملے پر ابھی مزید مشاورت جاری ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ وزیر توانائی اویس لغاری اور وزیراعظم اس معاملے پر مسلسل کام کررہے ہیں۔
کمیٹی ارکان نے بجلی قیمتوں میں ممکنہ اضافے یا کمی سے متعلق بھی سوال کیا۔ تاہم محمد اورنگزیب نے براہ راست جواب دینے کے بجائے محتاط رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بجلی سستی ہوگی یا مہنگی۔
دوسری جانب حکومت اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے درمیان توانائی شعبے پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔ پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کو نئے سبسڈی نظام کی یقین دہانی کرا چکا ہے۔ اسی وجہ سے عوام میں بجلی بلوں کے مستقبل سے متعلق بے چینی بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو ہر محاذ پر شکست دی: ڈی جی آئی ایس پی آر
وزیر خزانہ نے اجلاس میں آئی ایم ایف پروگرام پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس کل ہوگا جبکہ پاکستان اپنے تمام اہم اہداف پورے کرچکا ہے۔ مزید برآں انہوں نے واضح کیا کہ قرض کی حتمی منظوری آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے پر منحصر ہوگی۔
ادھر بجلی قیمتوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے اور صارفین حکومتی فیصلے کے منتظر ہیں۔ اگرچہ حکومت مسلسل مشاورت کررہی ہے، تاہم عوام اب بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بجلی قیمتیں کم ہوں گی یا مزید بڑھ جائیں گی۔