ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو مذہبی جرم سمجھا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ علاقائی ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران پر حملوں کے خلاف امریکہ پر دباؤ ڈالیں۔ خامنہ ای کا قتل مذہبی جرم ہے کا بیان ایران کی سخت سیاسی اور مذہبی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران خطے کے کسی ملک سے جنگ نہیں چاہتا اور امن کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کے مطابق علاقائی ممالک کو چاہیے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو فروغ دیں۔ انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کے دوران ایران پر حملے کر کے اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ امریکہ نے سفارت کاری کے دوران فوجی کارروائی کر کے غلط پیغام دیا ہے۔ انہوں نے 160 طالبات کی قبروں کی تصاویر بھی شیئر کیں اور کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدے کیے تھے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات ایرانی عوام کے لیے تکلیف کا باعث ہیں۔
مزید پڑھیں: حزب اللہ کے راکٹ حملے، شمالی اسرائیل نشانہ؛ سرحدی کشیدگی میں شدت
ادھر ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے کہا کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قدیم تہذیب اور قومی ورثے کا دفاع ہر قیمت پر کرے گا۔ سکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اختتام پر دوبارہ واضح کیا گیا کہ خامنہ ای کا قتل مذہبی جرم ہے اور اس طرح کے کسی بھی اقدام کے سنگین سیاسی اور عسکری نتائج ہوں گے۔ ایران اپنی خودمختاری، تہذیب اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم رہے گا۔












