06:08 , 23 جون 2026
Watch Live

آسام اسمبلی نے متنازعہ قانون منظور کر لیا، ایک سے زائد شادی پر سزا اور پابندیاں

ایک سے زائد شادی پر سزا اور پابندیاں

بھارتی ریاست کی اسمبلی نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جسے ناقدین مسلم مخالف قرار دے رہے ہیں۔ قانون کے مطابق ریاست میں ایک سے زائد شادی (پولیگمی) کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت پہلی شادی کے باوجود دوسری شادی کرنے والے افراد کو 7 سال تک قید ہو سکتی ہے، جبکہ پہلی بیوی کی اجازت نہ لینے پر سزا مزید بڑھ سکتی ہے۔ پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے پر 10 سال تک قید کا سامنا کرنا پڑے گا اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں سزائیں دگنی ہو جائیں گی۔

نئے قانون میں دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت کرنے والوں کے لیے بھی سخت پابندیاں شامل ہیں۔ گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست جو ایسی شادیوں میں ملوث پائے جائیں، انہیں دو سال تک قید اور 1 لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایسی شادی کرنے والے افراد سرکاری نوکری اور مقامی انتخابات میں حصہ لینے سے بھی محروم ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں دلہن کے زخمی ہونے کے باوجود شادی مکمل

قانون میں غیر قانونی شادی کا شکار خواتین کے لیے معاوضے اور قانونی تحفظ کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ یہ اقدام اسلام مخالف نہیں بلکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ازدواجی ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی دوسری شادی پر پابندی عائد ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون ذاتی آزادی، مذہبی روایات اور سماجی ڈھانچے میں مداخلت کے مترادف ہے، خصوصاً ان کمیونٹیز میں جہاں تعددِ ازدواج مذہبی یا روایتی طور پر رائج ہے۔ بل میں مخصوص قبائل، نسلی گروہوں اور خود مختار علاقوں کو جزوی استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION