04:15 , 19 جون 2026
Watch Live

آسٹریین بیوٹی انفلوئنسر کی لاش سلووینیا کے جنگل سے برآمد

آسٹریا کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اسٹیفنی پیپر کی لاش سلووینیا کے جنگل سے ایک سوٹ کیس میں برآمد ہونے کا واقعہ پوری دنیا میں تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے اسٹیفنی پیپر قتل کیس کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، کیونکہ وہ پانچ دن سے لاپتہ تھیں اور پولیس مسلسل تلاش میں مصروف تھی۔

اسٹیفنی پیپر کو آخری بار ایک ہالیڈے پارٹی میں دیکھا گیا تھا جس کے بعد وہ اچانک غائب ہوگئیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے پارٹی کے دوران اپنے دوستوں کو ایک میسج میں بتایا تھا کہ سیڑھیوں پر ایک عجیب شخص موجود ہے جس کی وجہ سے ان میں خوف پیدا ہوگیا تھا۔ اس پیغام نے ان کی گمشدگی پر مزید سوالات کھڑے کیے۔

پانچ روز بعد ان کی لاش ہمسایہ ملک سلووینیا کے جنگل سے ایک سوٹ کیس میں ملی۔ اس انکشاف نے آسٹریا اور سلووینیا دونوں میں ہلچل مچا دی۔ پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا دائرہ بڑھایا اور ممکنہ مشکوک افراد کی تلاش شروع کی۔

مزید پڑھیں: ڈکی بھائی سوشل میڈیا سے دور، اہلیہ نے گردش کرتی ویڈیوز کو پرانا قرار دے دیا

تحقیقات کے دوران اسٹیفنی پیپر کے سابق بوائے فرینڈ کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس نے پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے اسٹیفنی کا گلا گھونٹ کر قتل کیا اور لاش کو سلووینیا کے جنگل میں پھینک دیا۔ مزید یہ کہ وہ کئی بار اپنی کار میں سلووینیا آتا جاتا دیکھا گیا تھا۔

اسٹیفنی پیپر گراز میں رہتی تھیں جو سلووینیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ وہ آسٹریا کی مشہور بیوٹی انفلوئنسر، میک اپ آرٹسٹ اور گلوکارہ تھیں۔ ان کا سوشل میڈیا بیوٹی لکس، پروڈکٹ ریویوز اور ٹپس سے بھرا ہوا تھا۔ ان کی اچانک موت نے ان کے چاہنے والوں کو صدمے میں ڈال دیا ہے، اور اسٹیفنی پیپر قتل کیس اب یورپ میں ایک بڑا مجرمانہ معاملہ بن چکا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION