12:52 , 1 مئی 2026
Watch Live

ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی قاتلانہ حملے میں شدید زخمی، اہلیہ جاں بحق

کمال خرازی حملہ ایران

ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی ایک مبینہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ جاں بحق ہو گئی ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز تہران میں کمال خرازی کے گھر کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ان کی اہلیہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئیں۔

دوسری جانب جمعرات کو بھی ایران کے مختلف شہروں تہران، اصفہان اور شیراز میں فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ جنوبی شہر لارستان میں کم از کم چار افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد اضافہ

ایرانی مسلح افواج کے مرکزی کمان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ جاری رکھے گا اور امریکا و اسرائیل کو “مستقل پچھتاوا” اور “ہتھیار ڈالنے” پر مجبور کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن نے ایران کی عسکری صلاحیت کا غلط اندازہ لگایا ہے اور آئندہ حملے مزید شدید اور تباہ کن ہوں گے۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا آئندہ چند ہفتوں میں ایران پر مزید سخت حملے کرے گا۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے جاری اس جنگ میں اب تک ایران میں 1340 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ تل ابیب کے قریب بنی براک میں ایرانی میزائل حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کمال خرازی پر حملہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ ایران نے مزید حملوں کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION