حکومت کا صنعتی صارفین کے لیے نیا بجلی ٹیرف متعارف کرانے کا فیصلہ

حکومت نے صنعتی صارفین کو دن کے اوقات میں زیادہ بجلی استعمال کرنے اور شام کے اوقات میں کھپت کم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے نئے بجلی ٹیرف ڈھانچے پر کام شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری نے اس حوالے سے عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار سے ملاقات میں تفصیلی گفتگو کی۔ وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بجلی کی کھپت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا مظہر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت بجلی کے نرخوں کو مسابقتی بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ معیشت کے اہم شعبے اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کے مطابق پاور ڈویژن رعایتی ٹیرف کا جائزہ لینے کے بعد اب “ٹائم آف یوز” ماڈل پر تجاویز تیار کر رہا ہے تاکہ توانائی کے شعبے کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
بجلی صارفین پر بڑا بوجھ، اپریل کے بلوں میں 14 ارب روپے سے زائد اضافہ
سردار اویس احمد لغاری نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد پاکستان میں شمسی توانائی کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا اور صنعتوں کو رعایتی نرخ فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے اہم پالیسی فیصلوں پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے اس عمل کو مزید تقویت دی ہے۔
وزیر توانائی نے توانائی کے شعبے میں عالمی بینک کے تعاون کو سراہتے ہوئے جاری منصوبوں کی کامیاب تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور مستقبل میں بھی قریبی اشتراک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
عالمی بینک کی نمائندہ نے حکومتی اصلاحاتی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے ٹیرف کی بہتری، ترسیلی نظام اور قابل تجدید توانائی کے فروغ میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
















