03:59 , 23 جون 2026
Watch Live

پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتوں کے بل کی منظوری دے دی

پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتوں کے بل کی منظوری دے دی

پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتوں کے بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس میں 160 ووٹ حق میں اور 79 ووٹ مخالفت میں آئے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق یہ بل سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پیش کیا گیا تاکہ ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بل میں لفظ "اقلیت” کی واضح تعریف شامل کی گئی ہے اور اس کا مطلب غیر مسلم ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ قادیانی اس بل سے مستفید نہیں ہوں گے اور اس کا مقصد صرف غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے زور دیا کہ غیر مسلموں کے حقوق پر دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور یہ بل اقلیتوں کو اپنا دکھ درد اور مسائل حکومت تک پہنچانے کا ایک مضبوط قانونی ذریعہ فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بعض اشتہارات میں خاکروبوں کے لیے بھی شرط رکھی جاتی ہے کہ امیدوار غیر مسلم ہونا چاہیے، جو اقلیتوں کے حقوق کی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ اس ملک میں زبردستی مذہب تبدیل کیے جاتے ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ قانون بہت ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بل کا ختم نبوتﷺ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

یہ قانون 2014 میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد تیار کیا گیا، جس میں عدالت نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر یہ کمیشن قائم کیا گیا تاکہ اقلیتیں آئین اور قانون کے مطابق اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کر سکیں۔

اس قانون کے نفاذ سے اقلیتیں اب حکومت کے سامنے اپنے مسائل اور شکایات پیش کر سکیں گی، اور ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت مضبوط ہوگی۔ اس بل کی منظوری سے نہ صرف قانونی فریم ورک مضبوط ہوا ہے بلکہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور انصاف کے فروغ کی جانب بھی ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION