12:49 , 1 مئی 2026
Watch Live

نیپرا کا سی پی پی اے اور این ٹی ڈی سی پر 6 کروڑ روپے جرمانہ

نیپرا جرمانہ بجلی لاگت اضافہ

قومی برقی توانائی ضابطہ کار ادارہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی پر مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

یہ کارروائی جنوری 2024 میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور نظامی خامیوں کے باعث کی گئی۔ نیپرا کے مطابق اس ماہ کے لیے ایندھن لاگت کا معیار 7 روپے 49 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا تھا، تاہم اصل لاگت بڑھ کر 14 روپے 60 پیسے فی یونٹ تک جا پہنچی۔

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 7 روپے 13 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دی تھی، جس پر نیپرا نے تحقیقات کا حکم دیا۔

نیپرا رپورٹ: پاور سیکٹر میں بھاری خسارہ

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سستی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع دستیاب ہونے کے باوجود مہنگی بجلی فرنس آئل اور ڈیزل کے ذریعے پیدا کی گئی۔ نیپرا کے مطابق ایل این جی اور جوہری توانائی کے پلانٹس کی پیداوار کم رکھی گئی، جبکہ مہنگے ایندھن کے استعمال سے 31 ارب 23 کروڑ روپے کی اضافی لاگت آئی۔

ریگولیٹر نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی پر 1 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا کیونکہ وہ اتھارٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی، جبکہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی پر 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

این ٹی ڈی سی پر جرمانہ اس وجہ سے کیا گیا کہ وہ ٹرانسمیشن نظام کو بہتر بنانے میں ناکام رہی، جس کے باعث مقامی کوئلے سے پیدا ہونے والی سستی بجلی کو شمالی علاقوں تک منتقل نہیں کیا جا سکا۔

نیپرا نے دونوں اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر جرمانے کی رقم جمع کروائیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION