پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی باضابطہ درخواست کر دی

حکومتِ پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں پاک برطانیہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کے معاملات بھی زیرِ غور آئے۔ فریقین نے اس عمل کو شفاف اور قوانین کے مطابق آگے بڑھانے پر زور دیا۔
اسی موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کے لیے درکار سرکاری کاغذات برطانوی ہائی کمشنر کے حوالے کیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افراد پاکستان میں مختلف الزامات کے باعث مطلوب ہیں، لہٰذا انہیں جلد از جلد پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ کی ابھرتی ہوئی امیگریشن پالیسیوں اور پریشان کن عالمی مضمرات پر سفارتی عکاسی
محسن نقوی نے برطانوی سفارتکار کو ان افراد سے متعلق ٹھوس شواہد بھی فراہم کیے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ فیک نیوز اور پراپیگنڈا ہر ریاست کے لیے سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کا مؤثر حل ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت آزادی اظہارِ رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے، تاہم آزادی کے نام پر غلط معلومات پھیلانا کسی بھی ملک کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون بڑھانے سے نہ صرف دونوں ملکوں کے سکیورٹی معاملات بہتر ہوں گے بلکہ قانونی کارروائیوں میں بھی پیش رفت تیز ہوسکے گی۔ اس حوالے سے مستقبل میں مزید رابطے جاری رہیں گے۔













