آرٹیمس ٹو مشن کے تحت انسانوں کی چاند کی جانب واپسی

امریکہ نے انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کے اپنے مشن میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے آرٹیمس II مشن کا کامیاب آغاز کر دیا ہے۔ بدھ کے روز فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے ایک 32 منزلہ راکٹ کے ذریعے چار خلا بازوں کو خلا میں بھیجا گیا، جو تقریباً 10 روزہ سفر کے دوران چاند کے گرد چکر لگا کر واپس زمین پر آئیں گے۔
اس تاریخی مشن میں ناسا کے خلا باز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ شامل ہیں، جبکہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے خلا باز جیریمی ہینسن بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ یہ مشن کئی دہائیوں بعد انسانوں کا چاند کے گرد سفر ہے اور اسے مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ناسا کا بڑا اعلان، 2030 تک چاند پر نیوکلیئر ری ایکٹر نصب کرنے کا منصوبہ
راکٹ کی روانگی کے موقع پر ہزاروں افراد نے اس منظر کو براہ راست دیکھا۔ لانچ ڈائریکٹر نے خلا بازوں کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مشن نہ صرف سائنسی ترقی بلکہ نئی نسل کے خوابوں کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
پرواز کے چند منٹ بعد خلا بازوں نے چاند کا نظارہ کرتے ہوئے اپنے سفر کے آغاز کا اعلان کیا۔ ابتدائی مرحلے میں وہ زمین کے بلند مدار میں ایک سے دو دن گزاریں گے، جہاں خلائی جہاز کے مختلف نظاموں، بشمول لائف سپورٹ، نیویگیشن، پروپلشن اور کمیونیکیشن سسٹمز کی مکمل جانچ کی جائے گی۔
یہ مشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے کہ مستقبل میں انسانوں کو محفوظ طریقے سے چاند اور اس سے آگے بھیجا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم عالمی خلائی دوڑ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا
















