01:32 , 23 جون 2026
Watch Live

شفافیت میں اضافہ اور کرپشن میں کمی واقع. ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ جاری

کرپشن میں کمی

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے (NCPS) 2025 جاری کر دیا ہے، جس میں ملک میں کرپشن کے تاثر میں مجموعی طور پر کمی اور شفافیت میں بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی عوام کا عمومی تاثر گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت دکھائی دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ 12 ماہ میں کسی بھی سرکاری کام کے لیے رشوت نہیں دینی پڑی۔ ادارے نے اسے کرپشن کے تاثر میں بہتری کا اہم اشارہ قرار دیا ہے۔

سروے میں شامل 60 فیصد شرکا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ معیشت کو مستحکم کرنے میں حکومت کے اقدامات—بالخصوص آئی ایم ایف معاہدہ اور ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنا—اہم ثابت ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت زبوں حالی سے استحکام اور پھر بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق 43 فیصد لوگوں نے قوتِ خرید میں بہتری جبکہ 57 فیصد نے قوتِ خرید میں کمی رپورٹ کی۔ سروے میں شامل آرا کے مطابق مہنگائی اب بھی بڑی تشویش ہے مگر معاشی اعتماد میں بہتری کے آثار موجود ہیں۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 51 فیصد شرکا چاہتے ہیں کہ ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے والے فلاحی ادارے عوام سے کوئی فیس وصول نہ کریں۔ اسی طرح 53 فیصد نے مطالبہ کیا کہ این جی اوز، ہسپتال اور دیگر ادارے اپنے عطیات اور ڈونرز کی تفصیل عوام کے سامنے پیش کریں۔

NCPS 2025 کا سروے 22 سے 29 ستمبر 2025 کے دوران کیا گیا۔ گزشتہ برس 1600 افراد نے حصہ لیا تھا جبکہ اس سال شرکا کی تعداد بڑھ کر 4000 ہو گئی، جس سے نتائج کی درستگی اور نمائندگی مزید بہتر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کرپشن سے بچنے کیلئے آے آئی سے بنا وزیر مقرر

شرکا میں 55 فیصد مرد، 43 فیصد خواتین اور 2 فیصد خواجہ سرا شامل تھے۔ شہری علاقوں سے 59 فیصد جبکہ دیہی علاقوں سے 41 فیصد افراد نے سروے میں حصہ لیا۔ ادارے نے یاد دہانی کرائی کہ یہ سروے بدعنوانی کی اصل شرح نہیں بلکہ عوامی تاثر کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کے تاثر میں سب سے زیادہ متاثر ادارہ پولیس رہا، جبکہ ٹینڈر اور پروکیورمنٹ دوسرے، عدلیہ تیسرے، بجلی و توانائی چوتھے اور صحت کا شعبہ پانچویں نمبر پر رہا۔ تاہم پولیس کے بارے میں عوامی رائے میں 6 فیصد مثبت تبدیلی بھی سامنے آئی۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس بہتری کو ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر رویے اور سروس ڈلیوری میں تبدیلی کا نتیجہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ تعلیم، زمین و جائیداد، لوکل گورنمنٹ اور ٹیکسیشن کے شعبوں میں بھی تاثر میں بہتری نوٹ کی گئی۔

عوام کے مطابق کرپشن کی بڑی وجوہات میں شفافیت کی کمی، معلومات تک محدود رسائی اور مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر شامل ہیں۔ 59 فیصد شرکا کی رائے کے مطابق صوبائی حکومتوں میں بدعنوانی کا تاثر وفاق کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

سروے کے مطابق کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام نے احتساب کو مضبوط بنانے، صوابدیدی اختیارات کم کرنے، حقِ معلومات قوانین کو بہتر بنانے اور سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کو ضروری قرار دیا۔ 83 فیصد افراد نے سیاسی جماعتوں کی بزنس فنڈنگ پر سخت ضابطہ کاری یا مکمل پابندی کی حمایت کی۔

آخر میں رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 70 فیصد پاکستانیوں کو کسی بھی سرکاری کرپشن رپورٹنگ نظام کا علم نہیں۔ 42 فیصد لوگ مزید مؤثر وہسل بلوئر قوانین کے حق میں تھے، جو شفافیت بڑھانے اور کرپشن کی نشاندہی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION