06:12 , 20 جون 2026
Watch Live

امریکی انٹیلیجنس کا انتباہ، اسرائیل ایران امن معاہدے کو متاثر کر سکتا ہے

ایران اسرائیل امن معاہدہ

امریکی انٹیلیجنس اداروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل ایسے اقدامات کر سکتا ہے جو ایران کے ساتھ مجوزہ امن عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تازہ انٹیلیجنس جائزوں کے مطابق ایران اسرائیل امن معاہدہ سے متعلق امریکی کوششوں کو مختلف علاقائی اور سیاسی عوامل سے چیلنجز درپیش ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ دیرپا امن معاہدے کے امکانات کو کمزور کر دیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی قیادت پر اندرونی سیاسی دباؤ بھی موجود ہے جس کا اثر خطے میں جاری تنازعات پر پڑ سکتا ہے۔

حکام کے مطابق نیتن یاہو کو لبنان میں جاری کشیدگی اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ انٹیلیجنس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو مجوزہ معاہدے میں شامل وسیع جنگ بندی کی شقوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدارتی بوئنگ طیارہ 35 سال بعد ریٹائر، قطر کا 40 کروڑ ڈالر کا طیارہ نیا ایئر فورس ون بنے گا

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق حالیہ انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ آئندہ قومی انتخابات کے تناظر میں نیتن یاہو کی سیاسی حکمت عملی لبنان سے فوجی انخلا نہ کرنے اور حزب اللہ کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھنے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی عوامل خطے میں سفارتی پیش رفت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو ٹرمپ انتظامیہ کے امن منصوبے کی بعض شرائط پر تحفظات ہیں کیونکہ اس کے خیال میں یہ اقدامات ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی کو محدود کر سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران اسرائیل امن معاہدہ سے متعلق جاری سفارتی کوششوں پر خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION