امریکی صدارتی بوئنگ طیارہ 35 سال بعد ریٹائر، قطر کا 40 کروڑ ڈالر کا طیارہ نیا ایئر فورس ون بنے گا

امریکا کا صدارتی طیارہ، جسے ایئر فورس ون کہا جاتا ہے، 35 سالہ خدمات انجام دینے کے بعد باضابطہ طور پر ریٹائر کر دیا گیا ہے۔ اس طیارے نے کئی دہائیوں تک امریکی صدور کو بین الاقوامی دوروں اور اہم سفارتی مشنز کے لیے خدمات فراہم کیں۔ اب اس کی جگہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا 40 کروڑ ڈالر مالیت کا لگژری بوئنگ طیارہ نئے ایئر فورس ون ری پلیسمنٹ پروگرام کے تحت استعمال کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق بوئنگ 747 طیارہ 1990 میں امریکی فضائیہ کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا اور 35 سال سے زائد عرصے تک مختلف امریکی صدور کے لیے سفری سہولت فراہم کرتا رہا۔ اس دوران اس نے سینکڑوں عالمی دوروں، سربراہی اجلاسوں اور اہم سرکاری دوروں میں کلیدی کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے بعد اسی طیارے میں واشنگٹن تک اپنی آخری پرواز کی، جو اس طیارے کی طویل سروس کا اختتام تھا۔ اس موقع کو امریکی صدارتی فضائی تاریخ میں ایک اہم لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف، ایران ڈیل میں کردار کا اعتراف
امریکی کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے سوشل میڈیا پر طیارے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے “وفادار ساتھی” قرار دیا اور اپنی پوسٹ میں “آخری سواری” کے الفاظ استعمال کیے، جس سے اس تاریخی طیارے کی ریٹائرمنٹ کی علامتی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق قطر کی جانب سے ایک سال قبل تحفے میں دیا گیا لگژری بوئنگ 747 طیارہ عارضی طور پر صدارتی فضائی بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ نئے ایئر فورس ون کے طور پر استعمال ہوگا، جبکہ مستقبل میں امریکی صدارتی فضائی نظام کی مکمل اپگریڈیشن جاری رہے گی۔
















