پاک فوج کی جانب سے افغانستان کی جانب سے ہونے والی بلا اشتعال کارروائیوں کے جواب میں سرحدی علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے زمینی اور فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق جاری ہے اور اس کا مقصد سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر کا خاتمہ اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی افواج نے مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ افواج پاکستان نے افغانستان کے صوبے پکتیکا میں واقع شاہین بیس کے ایمیونیشن ڈپوز کو تباہ کر دیا۔ اس کارروائی کا مقصد دہشت گردوں کے اسلحہ اور بارود کے ذخائر کو ختم کرنا تھا تاکہ وہ مستقبل میں حملوں کے قابل نہ رہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب بھر میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں 31 مارچ تک بند
اسی طرح شوال، جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی ایک پوسٹ کو بھی دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے کارندے موقع سے فرار ہو گئے اور علاقے میں ان کی سرگرمیاں کمزور پڑ گئیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق جاری رہے گا اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اپنے تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔













