علی امین گنڈاپور کی بجٹ بحث کے دوران اپنی ہی حکومت پر تنقید، وسائل کی تقسیم پر سوالات

پشاور: سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں اور ترقیاتی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے وسائل کی تقسیم اور عوامی مسائل کے حل پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل نہ ہونا حکومت اور منتخب نمائندوں کی اجتماعی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی ایک قانون ساز ادارہ ہے، لیکن قانون سازی کے اثرات عام آدمی تک منتقل نہیں ہو رہے اور عوام کو اس کے حقیقی فوائد نہیں مل رہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو بھی قانون کے مطابق تمام حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومیں انسانوں پر سرمایہ کاری، مضبوط معیشت، مؤثر نظامِ انصاف اور انسانی ترقی کے ذریعے آگے بڑھتی ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے سوئٹزرلینڈ میں ملاقات
علی امین گنڈاپور نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) اور این ایف سی ایوارڈ میں اپنا مکمل آئینی حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کے حصے میں کمی ناانصافی ہوگی اور اس سے عوام میں بے اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی منصوبوں کے لیے انتہائی کم رقوم رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ پیکج کے لیے 200 ارب روپے کے اعلان کے باوجود صرف 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ زراعت، لائیو اسٹاک، معدنیات اور سیاحت جیسے اہم شعبوں کو بھی مناسب وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وسائل کی تقسیم میں انصاف اور توازن کو یقینی بنایا جائے اور صرف اعلانات کے بجائے عملی نتائج پر توجہ دی جائے۔











