01:22 , 22 جون 2026
Watch Live

قومی اسمبلی نے 43 کھرب 85 ارب روپے سے زائد کے 88 مطالباتِ زر منظور کر لیے

ایاز صادق

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے بجٹ اجلاس کے دوران مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے 43 کھرب 85 ارب روپے سے زائد مالیت کے 88 مطالباتِ زر کی منظوری دے دی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی 90 کٹوتی کی تحاریک کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اتوار کے روز بھی بجٹ اجلاس جاری رہا، جس میں مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کے اخراجات کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے مختلف مطالباتِ زر میں کمی کی تجاویز پیش کی گئیں، تاہم ایوان نے تمام کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دیں۔

منظور کیے گئے مطالباتِ زر میں دفاع اور دفاعی پیداوار کے لیے 30 کھرب 69 ارب 35 کروڑ روپے، مواصلات کے لیے 125 ارب 72 کروڑ روپے، تعلیم کے لیے 192 ارب 70 کروڑ روپے اور آبی وسائل کے لیے 107 ارب 32 کروڑ روپے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خارجہ امور، صحت، آئی ٹی، منصوبہ بندی، صنعت و پیداوار، تجارت، اطلاعات و نشریات اور قانون و انصاف کے شعبوں کے لیے بھی اربوں روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی۔

قومی اسمبلی نے ریلوے، سائنس و ٹیکنالوجی، اقتصادی امور، بحری امور، امورِ کشمیر و گلگت بلتستان، سمندر پار پاکستانیوں، مذہبی امور اور پارلیمانی امور کے مطالباتِ زر کی بھی منظوری دی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اخراجات کے لیے بھی مختص فنڈز منظور کر لیے گئے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دفاعی بجٹ کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION