فائبر آپٹک ڈرونز نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دیں

حزب اللہ کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کم قیمت فائبر آپٹک ڈرونز نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے لیے نئے اور سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس کے باعث اسرائیلی فوج کو اپنی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا پڑ رہی ہے۔
اسرائیلی فوج، جسے دنیا کی جدید ترین افواج میں شمار کیا جاتا ہے، نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ان ڈرون حملوں میں دو فوجی اور ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب اپریل کے وسط سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ڈرونز انتہائی سستے، چھوٹے اور عام طور پر دستیاب ہیں، جو بظاہر بچوں کے کھلونوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کی سینئر محقق اورنا میزراحی نے کہا کہ فوج ان کم ٹیکنالوجی لیکن مہلک ہتھیاروں کے لیے پہلے سے تیار نہیں تھی۔
یہ ڈرونز روایتی GPS یا ریڈیو سگنلز کے بجائے ایک باریک فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جو انہیں جامنگ اور الیکٹرانک وارفیئر سے محفوظ بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی خصوصیت انہیں مزید خطرناک بناتی ہے۔
حزب اللہ کے میڈیا چیف کے مطابق یہ ڈرونز لبنان میں ہی تیار کیے جا رہے ہیں اور ان کی تیاری کی لاگت چند سو ڈالر سے لے کر چند ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق ان ڈرونز کو مار گرانا مہنگا اور غیر مؤثر ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے لیزر ٹیکنالوجی اور دیگر نئے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ فوج نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ سے سیکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں ایسے ڈرونز عام استعمال ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس خطرے کا تفصیلی تجزیہ کر رہی ہے اور اپنی دفاعی حکمت عملی کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔















