ٹرمپ نے کیوبا پر امریکی پابندیاں مزید سخت کر دیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کی حکومت کے خلاف نئی ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے دو حکام کے مطابق یہ اقدام ہوانا حکومت پر دباؤ بڑھانے کی امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔
نئی پابندیوں کے تحت ان افراد، اداروں اور ان کے معاونین کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کیوبا کے سکیورٹی نظام کی حمایت کرتے ہیں یا بدعنوانی اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت سے وابستہ اہلکاروں اور ان کے حامیوں کو بھی پابندیوں کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فوری طور پر کن افراد یا اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاہم حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات کسی بھی غیر ملکی فرد یا کمپنی پر لاگو ہو سکتے ہیں جو کیوبا کی معیشت کے اہم شعبوں میں سرگرم ہو۔ ان شعبوں میں توانائی، دفاع، دھاتیں اور کان کنی، مالیاتی خدمات اور سکیورٹی سیکٹر شامل ہیں۔
پی ایس ایل میں حیدرآباد کنگز کی سنسنی خیز جیت، فائنل میں رسائی
اس کے علاوہ سیکنڈری پابندیوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ غیر ملکی افراد یا کمپنیاں بھی نشانہ بن سکتی ہیں جو ان پابندیوں کے شکار اداروں کے ساتھ مالی یا تجارتی لین دین کریں گے۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے ان اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “ظالمانہ اور نسل کشی پر مبنی محاصرہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں کیوبا کے عوام کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے مترادف ہیں۔ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے بھی ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کے عوام کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کیوبا خطے میں امریکی سرزمین کے قریب غیر مستحکم سرگرمیوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کر رہا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔















