مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اہم بیان

پارلیمنٹ کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے مدارس اور دیگر قانونی اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے حوالے سے ایک قانون تو بنایا گیا ہے، مگر اس پر رجسٹریشن کا عمل شروع نہیں ہوا، اور اس بل کو ان کی جماعت نے نہیں بلکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے ملک میں، خاص طور پر پنجاب میں، مدارس کو وزارت تعلیم کے تحت لانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، جو درست نہیں ہیں۔ انہوں نے 18 سال سے قبل کے نکاح کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا کہ اسے زنا بالجبر قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کی اولاد کو درست تصور کیا جاتا ہے، جو قانون اور شرع کے نقطہ نظر سے تضاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانس جینڈر کی قانون سازی کی جا رہی ہے جبکہ اس میں اسلامی نظریاتی کونسل اور آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ حکومت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے پابند ہے یا پاکستان کے آئین و قانون کے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ جذباتی نہیں بلکہ جائز مخالفت کر رہے ہیں اور کسی قسم کی پوائنٹ سکورننگ نہیں کر رہے۔ مولانا فضل الرحمان نے گھریلو تشدد کے قانون پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور یاد دلایا کہ پنجاب میں بل آیا تھا جس کی وہ خود مخالفت کر چکے ہیں۔
پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتوں کے بل کی منظوری دے دی
پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ آئینی اور قانونی معاملات میں صرف قانون، آئین اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات یا عالمی دباؤ کو۔
مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ ایک حدیث کے مطابق ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ قدم قدم اور بالشت بالشت یہود و نصاری کی پیروی کریں گے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں قانون سازی اور آئینی ترامیم میں اسلامی اصولوں کی پیروی لازمی ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیامت تک امت کے لیے مشورے کا راستہ رکھا گیا ہے اور ہم سب پر آئین اور قانون کا احترام واجب ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوشش کی جائے کہ آئین اور قانون سازی مشترکہ اور متفقہ طور پر کی جائے تاکہ تمام شہری اور سیاسی جماعتیں اس پر اعتماد رکھ سکیں۔
مولانا فضل الرحمان نے ستائیسویں آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم متفقہ نہیں ہے اور اس سے ملک میں ایک طبقاتی فرق پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق ستائیسویں آئینی ترمیم کچھ شخصیات کو تاحیات مراعات دیتی ہے اور متفقہ ٹائٹل پر ایک خراش کے طور پر دیکھی جائے گی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے دو تہائی اکثریت کے باوجود تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا، لیکن ستائیسویں ترمیم کے ذریعے سیاسی عمل میں شفافیت اور اتفاق رائے کے اصول کو نظر انداز کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم میں پاکستان تحریک انصاف کی بلا واسطہ حمایت حاصل تھی، جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں کرائی جا سکی۔
ان کے مطابق آئینی ترمیمات اور قانونی فیصلے صرف سیاسی جماعتوں کے مفادات کے لیے نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کا مقصد قانون، آئین اور عوامی اعتماد مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ پر زور دیا کہ آئینی ترامیم متفقہ اور شفاف ہوں تاکہ ملک میں سیاسی اختلافات کم ہوں اور اتحاد پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی پاسداری کے بغیر ملک میں مضبوط اور مستقل حکمرانی ممکن نہیں، اور آئینی ترامیم کے ذریعے کسی ایک طبقے یا شخصیات کو فائدہ پہنچانا قومی مفاد کے خلاف ہے۔













