اوپن اے آئی رپورٹ: اے آئی ٹولز نے دفتری کام کی رفتار اور معیار میں اضافہ کیا

اوپن اے آئی نے اپنی تازہ ترین اسٹیٹ آف انٹرپرائز اے رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کے استعمال سے دفتری ملازمین پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کی تیاری کے لیے اوپن اے آئی نے 10 لاکھ سے زائد کمپنیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جو اس کے اے آئی ٹولز استعمال کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ تقریباً 100 اداروں سے تعلق رکھنے والے 9 ہزار ورکرز سے سروے بھی کیا گیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 75 فیصد ورکرز نے بتایا کہ کام کے لیے اے آئی کے استعمال سے ان کی کام کی رفتار اور معیار میں بہتری آئی ہے۔
اسی طرح، 75 فیصد صارفین نے کہا کہ وہ اب نئے اور پیچیدہ ٹاسک بھی مکمل کرنے کے قابل ہو گئے ہیں جو پہلے ممکن نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں : ماسکو میں جدید اے آئی روبوٹ نے صدر پیوٹن کے سامنے ڈانس پرفارمنس سے محفل گرم کر دی
اوپن اے آئی رپورٹ کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی انٹرپرائز کے صارفین روزانہ تقریباً ایک گھنٹے سے کم وقت بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں، جس سے ان کے کام کے اوقات میں 40 سے 60 منٹ کی بچت ہوتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کمپنیوں میں اے آئی کو اپنانے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ زیادہ تر صارفین اے آئی ٹولز کو اپنے روزمرہ ٹاسک آٹومیٹ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور انہیں ایک قابل اعتماد دفتر ساتھی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اگرچہ ملازمین اے آئی کو کارآمد قرار دیتے ہیں، تاہم زیادہ تر افراد اس کے زیادہ استعمال کو ترجیح نہیں دیتے، یعنی وہ اسے محدود مگر مؤثر انداز میں استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔











