وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بھی جاری ایران جنگ سے بہت متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس صورتحال کے باعث ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت خطے میں امن قائم رکھنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
خطے کی موجودہ صورتحال پر اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیراعظم بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں تاکہ جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہوں اور استحکام برقرار رہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے دو جہاز آبنائے ہرمز میں موجود تھے اور انہیں محفوظ طریقے سے گزرنے میں اہم کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو سراہا، جس سے ملکی مفادات محفوظ رہنے میں مدد ملی۔
مزید پڑھیں: آپریشن غضب للحق کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں 59 فیصد کمی
مزید برآں، انہوں نے معاشی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے تین ہفتوں میں پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹ کی۔ پارلیمنٹرینز نے تیل کی بچت کو یقینی بنایا اور صوبوں کو بھی کہا گیا کہ وہ غیر ضروری منصوبے روک کر عوام کو معاشی مشکلات سے بچائیں۔
آخر میں، وزیراعظم نے پھر کہا کہ پاکستان بھی ایران جنگ سے متاثر ہے اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے عوام خصوصاً مفلوک الحال طبقے اور زراعت پر توجہ دینے پر زور دیا اور کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔