02:58 , 1 مئی 2026
Watch Live

اسٹامپ پیپر فیسوں میں بڑا اضافہ، شہریوں اور سائلین پر نیا مالی بوجھ

اسٹامپ پیپر فیسوں میں بڑا اضافہ

راولپنڈی : حکومت کی جانب سے اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں بے پناہ اضافے کے بعد شہریوں اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق کم سے کم ای اسٹامپ پیپر کی مالیت 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کر دی گئی ہے، جس سے روزمرہ قانونی دستاویزات کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

طلاق کے لیے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ بچوں کے نئے اسکولوں میں داخلوں اور ملازمت کے لیے درکار ڈومیسائل اسٹامپ پیپر کی فیس بھی 500 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔

بجلی، سوئی گیس اور پانی کے نئے کنکشنز کے لیے اسٹامپ پیپر فیس اب 100 روپے کے بجائے 1000 روپے ادا کرنا ہوگی، جس سے عام صارفین پر اضافی مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ

پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ کے لیے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 1200 روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ پراپرٹی کے علاوہ دیگر معاہدوں کے لیے فیس 500 روپے مقرر کی گئی ہے۔

پانچ لاکھ روپے تک کے معاہدوں کے لیے اسٹامپ پیپر فیس 1200 سے بڑھا کر 3 ہزار روپے، پانچ سے دس لاکھ روپے تک کے معاہدوں کے لیے 6 ہزار روپے جبکہ ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے معاہدوں پر 20 ہزار روپے اضافی فیس عائد کی گئی ہے۔

پاور آف اٹارنی کے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 1500 سے بڑھا کر 1800 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ای اسٹامپ کے اجرا کے لیے سائل کے نام پر موبائل فون سم کا ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION