پوپ لیو کا مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کے خاتمے اور مذاکرات کا مطالبہ

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اتوار کے روز اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ سے انتہائی تشویشناک خبریں موصول ہو رہی ہیں، اس لیے تشدد روکنے اور مذاکرات کے لیے نئی کوششیں ضروری ہیں۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد لڑائی کے نویں دن شدت اختیار کرنے پر پوپ لیو نے خبردار کیا کہ یہ تنازع خوف اور نفرت کو ہوا دے رہا ہے اور مزید پھیل سکتا ہے۔
انہوں نے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں اینجلس کی دعا کے دوران کہا کہ تشدد اور تباہی کے واقعات کے ساتھ ساتھ خطے میں نفرت اور خوف کی فضا بھی بڑھ رہی ہے۔
ایران کا 24 گھنٹوں میں 4 امریکی میزائل دفاعی ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ
پوپ لیو نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہ تنازع پھیل گیا تو خطے کے دیگر ممالک بشمول لبنان ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئیے عاجزانہ دعا کریں کہ بموں کی گھن گرج تھم جائے، ہتھیار خاموش ہو جائیں اور مذاکرات کے لیے راستہ کھلے جہاں عوام کی آواز سنی جا سکے۔
ادھر ویٹیکن کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے بھی خبردار کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے بین الاقوامی قانون کو نقصان پہنچایا ہے اور ریاستوں کو پیشگی جنگیں شروع کرنے کا کوئی حق نہیں۔












