06:37 , 21 جون 2026
Watch Live

پنجاب میں شدید بارشیں اور بھارتی پانی سے دریاؤں میں سیلاب، متعدد علاقے زیرِ آب

بھارت سے پانی چھوڑے جانے اور مسلسل بارشوں کے باعث دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ نارروال، سیالکوٹ، شکرگڑھ سمیت کئی اضلاع متاثر ہو چکے ہیں۔

سیالکوٹ میں 24 گھنٹوں میں 335 ملی میٹر بارش ہوئی، نالا ڈیک کا ریلا ہنجلی پُل بہا لے گیا، درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع۔

شکرگڑھ میں بھارت سے آنے والا ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلا دریائے راوی میں داخل ہوا، کوٹ نیناں میں شدید سیلاب۔

نارروال میں ریسکیو ٹیموں نے 55 افراد کو بچایا، نالا بئیں میں بھی اونچے درجے کا سیلاب۔ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر پانی کی سطح 2 لاکھ 41 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی۔

دریائے ستلج میں سیلابی پانی نے بہاولپور، احمد پور شرقیہ، خیر پور ٹامیوالی اور بہاولنگر کی دیہی آبادیوں، فصلوں اور اسکولوں کو متاثر کیا۔

حافظ آباد میں ہیڈ قادرآباد پر پانی کی سطح بلند ہونے پر 6 فلڈ کیمپس قائم کیے گئے۔

شکرگڑھ میں چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق، دو بچے زخمی ہوئے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہے، 2022 میں 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، تنہا اس بحران سے نہیں نمٹ سکتے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ سیلاب زدہ اضلاع میں ریسکیو آپریشن تیز کیا جائے۔ خوراک، ادویات اور خیموں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پھنسے افراد کے انخلا کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION