دنیا کا پہلا نجی اسپیس سائنس سیٹلائٹ لانچ

خلا کے سائنسی مطالعے میں ایک نئی پیش رفت کے طور پر دنیا کا پہلا نجی اسپیس سائنس سیٹلائٹ خلا میں روانہ کر دیا گیا ہے۔
لندن کی کمپنی بلو اسکائیز اسپیس کے مطابق مائیکرو ویو کے سائز کا یہ سیٹلائٹ، جس کا نام ماؤ (Māu) ہے، جمعہ کو اسپیس ایکس کے فیلکن 9 راکٹ کے ذریعے کیلیفورنیا سے مدار میں بھیجا گیا۔
سیٹلائٹ میں نصب خصوصی مائیکرو ٹیلی اسکوپ ایگزو پلینٹس، دور دراز فلکیاتی اجسام اور خلا کی گہرائیوں میں موجود دیگر مظاہر کا مشاہدہ کرے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ماؤ سے حاصل ہونے والا سائنسی ڈیٹا ان تحقیقی اداروں کو فراہم کیا جائے گا جو اس کی سبسکرپشن سروس کا حصہ ہیں، جن میں بوسٹن یونیورسٹی اور کولمبیا یونیورسٹی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی جدید سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کی تیاری مکمل
بلو اسکائیز اسپیس کی چیف سائنٹسٹ پروفیسر جیووینا ٹینیٹی کے مطابق یہ مشن فلکیاتی تحقیق کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا:
"ماؤ خلا کے مشاہدے کا وہ دروازہ کھولے گا جو اس سے پہلے سائنس کے لیے بند تھا۔”
یہ منصوبہ نجی شعبے کی سطح پر خلا کی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔











