ایران کا بیان: کچھ ممالک کو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت

ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اسرائیلی اور امریکی سفیروں کو نکالنے والے ممالک اب آبنائے ہرمز استعمال کر سکیں گے۔ بیان کے مطابق ان ممالک کو کل سے اس اہم سمندری گذرگاہ سے بلا روک ٹوک گزرنے کی مکمل آزادی دی جائے گی تاکہ تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں تمام آپریشنز اور گذر کی نگرانی پاسداران انقلاب کے تحت کی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔ ایران نے واضح کیا کہ یہ اقدام علاقائی سلامتی اور سمندری تجارتی راہداریوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
ادھر امریکی صدر نے ری پبلکن کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی نیوی آبنائے ہرمز میں موجود تجارتی جہازوں کی حفاظت کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکی بحریہ کی موجودگی خطے میں امن اور تجارتی نقل و حمل کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: قطر میں گمراہ کن معلومات پھیلانے پر 313 افراد گرفتار
اس سے پہلے بھی امریکی صدر نے بیان دیا تھا کہ اگر ضرورت ہوئی تو امریکی نیوی تجارتی جہازوں کے ساتھ آبنائے ہرمز میں تعینات ہو گی تاکہ کسی بھی خطرے کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ ایران نے اس بیان پر فوری ردعمل دیتے ہوئے چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو امریکی بحری جہاز تعینات کرکے دکھائیں۔
پاسداران انقلاب نے واضح کیا کہ تمام ممالک کے لیے آبنائے ہرمز استعمال کر سکیں گے، اور ایران اس سمندری راہداری کی حفاظت اور اس کے امن کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ خطے میں توانائی اور تجارتی نقل و حمل متاثر نہ ہو۔












