ناسا نے 50 سال بعد دوبارہ چاند پر انسان بھیجنے کا اعلان کردیا

ناسا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلا انسانی مشن آئندہ سال فروری میں چاند کے گرد چکر لگا کر زمین پر واپس آئے گا۔ یہ مشن مستقبل میں 2027 میں انسان کو دوبارہ چاند پر اتارنے کی راہ ہموار کرے گا۔
آرٹیمس امریکا کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جسے نہ صرف سائنسی تحقیق اور معاشی فوائد کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے چین کے اس ہدف کا جواب بھی سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت بیجنگ 2030 تک اپنے خلا نوردوں کو چاند پر اتارنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس سے قبل نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 کے ذریعے بغیر انسان والا خلائی جہاز کامیابی سے چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آیا تھا۔ اب آرٹیمس 2 مشن 10 روزہ سفر پر مشتمل ہوگا جس میں خلا نورد چاند کے گرد گردش کریں گے اور واپس زمین پر آئیں گے۔ یہ 1972 کے بعد پہلا انسانی مشن ہوگا جو زمین کے نچلے مدار سے آگے تک کا سفر کرے گا۔
ناسا کے مطابق یہ مشن ابتدا میں اپریل 2025 کے لیے طے تھا، تاہم اب لانچ ونڈو 5 فروری 2026 سے کھلنے کا امکان ہے۔ ناسا کی قائم مقام ڈپٹی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر لاکیشا ہاکنز نے کہا کہ "یہ مشن تاریخ رقم کرے گا، لیکن ہماری پہلی ترجیح عملے کی حفاظت ہے۔”
آرٹیمس 2 کو ناسا کے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ اور اورائن کیپسول کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ 98 میٹر بلند راکٹ اور اورائن کیپسول خلا نوردوں کو لے کر پرواز کریں گے۔ لانچ ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا سے متوقع ہے۔
واضح رہے کہ آرٹیمس 3، جو 2027 میں متوقع ہے، کے ذریعے اسپیس ایکس کے اسٹارشپ لینڈر سے خلا نوردوں کو چاند پر اتارا جائے گا۔












