04:33 , 17 جون 2026
Watch Live

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر دھرنا، سہیل آفریدی نے گورکھ پور ناکہ احتجاج ختم کردیا

راولپنڈی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر دیا گیا گورکھ پور ناکے کا دھرنا ختم کر دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی سے مشاورت کے بعد احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

دھرنا اُس وقت دیا گیا تھا جب وزیراعلیٰ کے پی اور صوبائی وزراء کا قافلہ اڈیالہ جیل پہنچا، مگر پولیس نے انہیں گورکھ پور ناکے پر روک دیا۔ سہیل آفریدی نے پولیس حکام سے گلہ کیا کہ وہ صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندہ ہیں اور انہیں مسلسل آٹھویں بار بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو ایک صوبے کی توہین کے مترادف ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے اپوزیشن اتحاد کو دھرنے کے فیصلے سے پیشگی آگاہ نہیں کیا تھا۔ احتجاج کے تقریباً چار گھنٹے بعد اپوزیشن اتحاد کی قیادت کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے رابطہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی چاہتے تھے کہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان اپوزیشن اتحاد کی جانب سے کیا جائے، تاہم قیادت نے مشاورت کے بعد دھرنا ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نئی کابینہ تیار

مشاورت میں طے پایا کہ منگل کے روز دوبارہ اڈیالہ جیل جایا جائے گا، اور اسی روز فیملی ملاقات کے ساتھ کارکنوں کو بھی آنے کی کال دی جائے گی۔ اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ آج عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ ملاقات نہ کرانے کے فیصلے کو چیلنج کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ کے پی کے ہمراہ شاہد خٹک، مینا خان، شفیع جان اور شوکت یوسفزئی بھی عمران خان سے ملاقات کیلئے آئے تھے، لیکن پولیس نے سیکیورٹی وجوہات بتاتے ہوئے قافلے کو آگے جانے سے روک دیا۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION